30 اکتوبر 2012 - 20:30

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے سرائیوو میں ایران پر پابندیاں جاری رکھنے پر تاکید کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس امیدکا اظہار کیا ہے کہ نئے مذاکرات کے ذریعہ ایران کے ایٹمی مسئلے کو سفارتی طریقہ سے حل کیا جاسکتاہے ۔

ابنا: ہلیری کلنٹن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایران یورنیم افزودگی کے بارے میں کوئی قابل قبول تجویز پیش نہیں کرتا ، انھوں نے کہاکہ ایران کے لئے موقع ہے کہ وہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں پائی جانے والی  عالمی تشویش کو سفارتی طریقہ سے دور کرے ، لیکن یہ موقع ہمیشہ کے لئے نہیں ہے ۔ ایشٹن نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات میں حل کے لئے آگے کی سمت بڑھنے کی کوشش کریں گے ۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ سعید جلیلی کے معاون اور اپنے مشیر اعلی کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونی گفتگو کی طرف اشارہ کیا اور کہاکہ عنقریب سعید جلیلی کے ساتھ گفتگوکے لئے مدد کاہاتھ بڑھاؤں گي ۔ہلری کلنٹن اور کیتھرین ایشٹن کے بیانات  سےبظاہر مغرب خاص طور پر امریکہ اور بعض یورپی ممالک کےدرمیان اتحاد کا کسی حد تک پتہ چلتاہے لیکن اسی انٹریومیں امریکہ اور یورپی یونین کے نظریات کے درمیان ایک قسم کا فرق اوراختلاف دکھائی دیتا ہے ۔ مثال کے طور پرمحترمہ ایشٹن نے ایران کے ساتھ مشترکہ نکات کے بارے میں مثبت نظر یات پائے جانے کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی لیکن  بعض لچکدار مواقف کی وجہ سے ایران اور یورپ کے درمیان موجود مواقع سے صحیح استفادہ نہیں کرسکیں ۔حالانکہ ایران اور یورپ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک سے پہلے  جامع اور تعمیری گفتگو کرچکے ہیں اور باہمی تعاون اور اعتماد سازی کے بارے میں اچھے اور مفید نتائج بھی حاصل کرچکے ہیں یہاں تک کہ یورپی یونین  ایران کے ساتھ اصلی تجارتی شریک قرار پائی ۔لیکن امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے یورپی یونین مذاکرات کے دور سے خارج ہوگئی اور امریکہ کی پالیسیوں کے مطابق عمل کرنے لگی ۔جس کا نمونہ ایران کے خلاف تیل اور گیس کی پابندی ہے ۔اس وقت محترمہ اشٹن کہتی ہیں کہ وہ عنقریب سعید جلیلی کے ساتھ گفتگو کے لئے مدد کا ہاتھ بڑھائیں گی ۔ اس سے پتہ چلتاہے کہ یورپی یونین  کو یقین نہیں ہے کہ  وہ ایران کے ساتھ اپنی غیر منطقی گفتگو کو زیادہ دنوں تک جاری رکھ پائےگی ۔ دوسری طرف کامیاب مذاکرات کے لئے متعدد چیزوں کی ضرورت ہے ۔جس میں سب سے اہم ایران کے حقوق کا احترام ہے اور ملت ایران کی ترقی خاص طور پر ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی راہ میں  رکاوٹ پیدا کرنے سے دستبردار ہونا ہے ۔مشکل یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کے  پرامن ایٹمی پروگرام منجملہ ایٹمی ایندھن  کی پیداوار کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے ہیں اور اعتماد سازی کے لئے حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے انھیں امید ہے کہ وہ پابندیوں کے ذریعہ ایران کو اقتصادی طور پر مفلوج کردیں گے ۔تاکہ ملت ایران اپنے مسلم اور قانونی حق سے پسپائي اختیار کرلے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرامن ایٹمی انرجی سے استفادہ کے بارےمیں ملت ایران کے حقوق کے دفاع کے سلسلے میں اپنے اصولی مواقف پر ڈٹا ہوا ہے اور وہ زور زبر دستی اور دھمکیوں سے ہرگز پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے ۔ مبصرین کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیوں کی توجیہ اور یورپی یونین کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی کوشش کررہا ہے مشترکہ پریس کانفرنس میں کیتھرین ایشٹن کے ساتھ ہلری کلنٹن کے بیان کا اسی زاویہ سے جائزہ لیا جاسکتاہے ۔.....

/169